‌صحيح البخاري - حدیث 2957

كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَابُ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَاءِ الإِمَامِ وَيُتَّقَى بِهِ صحيح وَبِهَذَا الإِسْنَادِ: «مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ يُطِعِ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي، وَإِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَعَدَلَ، فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا وَإِنْ قَالَ بِغَيْرِهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ مِنْهُ»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2957

کتاب: جہاد کا بیان باب : امام ( بادشاہ اسلام ) کے ساتھ ہو کر لڑنا اور اس کے زیر سایہ اپنا ( دشمن کے حملوں سے ) بچاو کرنا اور اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی ، اس نے میری نافرمانی کی ۔ امام کی مثال ڈھال جیسی ہے کہ اس کے پیچھے رہ کر اس کی آڑ میں ( یعنی اس کے ساتھ ہو کر ) جنگ کی جاتی ہے ۔ اور اسی کے ذریعہ ( دشمن کے حملہ سے ) بچا جاتا ہے ، پس اگر امام تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کا حکم دے اور انصاف کرے اس کا ثواب اسے ملے گا ، لیکن اگر بے انصافی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہو گا ۔ یعنی امام کی ذات لوگوں کا بچاؤ ہوتی ہے۔ کوئی کسی پر ظلم کرنے نہیں پاتا۔ دشمنوں کے حملہ سے اسی کی وجہ سے حفاظت ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ ہمہ وقت مدافعت کے لئے تیار رہتا ہے۔ ان احادیث سے امام وقت کی شخصیت اور اس کی طاقت پر روشنی پڑتی ہے اور سیاست اسلامی و حکومت شرعی کا مقام ظاہر ہوتا ہے جس کے نہ ہونے کی وجہ سے آج ہر جگہ اسلام غریب ہے اور مسلمان غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان احادیث پر ان حضرات کو بھی غور کرنا چاہئے جو اپنے کسی مولوی صاحب کو امام وقت کا نام دے کر اس کی بیعت کے لئے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اور حالت یہ کہ مولوی صاحب کو حکومت کے معمولی چپراسی جتنی طاقت و سیاست حاصل نہیں ہے۔