سنن النسائي - حدیث 1

كِتَابُ الطَّهَارَةِ تَأْوِيلُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ{ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ } صحیح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ

سنن نسائی - حدیث 1

کتاب: طہارت سے متعلق احکام و مسائل اللہ تعالیٰ کے فرمان:’’جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہرے اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ۔‘‘کی تفسیر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےنے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں نہ ڈالے حتی کہ اسے تین دفعہ دھو لے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔ (رات بھر کہاں کہاں لگتا رہا ہے۔‘‘ (۱) مذکورہ حدیث سے امام نسائی رحمہ اللہ سےکا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ وضو کرنے کے لیے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے انھیں تین دفعہ دھو لینا چاہیے، اس کے بعد وضو کا آغاز کرنا چاہیے۔ (۲) اس سے یہ مسئلہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ وضو کا پانی نجس نہ ہو جیسا کہ دیگر احادیث میں اسی کی صراحت آئی ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، الوضوء، حدیث: ۱۸۵، ۱۸۶ و صحیح مسلم، الطھارۃ، حدیث: ۲۳۵) (۳) اس حدیث میں رات کی نیند سے اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے کا ذکر ہے، مگر یہ علت عام ہے اور یہی صورت دن کی نیند میں بھی پیش آسکتی ہے، اس لیے عموم علت کی وجہ سے ہر نیند کے بعد ہاتھ دھونا ضروری ہیں۔ (۴) وضو کا مقصد صرف شرعی طہارت ہی نہیں بلکہ جسمانی صفائی بھی ہے۔ (۵) نظر نہ آنے والی نجاست، مثلاً: پیشاب خشک ہو جائے، یا مشکوک چیز لگ جائے تو انھیں تین دفعہ دھونا بہتر ہے، اس طرح وہ پاک ہو جائے گی، البتہ اگر نجاست نظر آ رہی ہو یا محسوس ہو رہی ہو تو اس کا زائل کرنا ضروری ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب