جامع الترمذي - حدیث 84

أَبْوَابُ الطَّهَارَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ​ صحيح وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ ﷺ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَهُ. وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ، وَالتَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ الأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَصَحُّ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ بُسْرَةَ. وَ قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: حَدِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ، وَهُوَ حَدِيثُ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ. و قَالَ مُحَمَّدٌ: لَمْ يَسْمَعْ مَكْحُولٌ مِنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَرَوَى مَكْحُولٌ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ. وَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ هَذَا الْحَدِيثَ صَحِيحًا.

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 84

کتاب: طہارت کے احکام ومسائل شرمگاہ( عضو تناسل) چھونے پر وضو کا بیان​ نیزاسے ابوالزناد نے بسند عروہ عن النبی اکرم ﷺ اسی طرح روایت کیا ہے۔ ۱- یہی صحابہ اور تابعین میں سے کئی لوگوں کا قول ہے اور اسی کے قائل اوزاعی ، شافعی، احمد ،اور اسحاق بن راہویہ ہیں،۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ بسرہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے،۳- ابوزرعہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ۱؎ (بھی) اس باب میں صحیح ہے،۴- محمدبن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ مکحول کا سماع عنبسہ بن ابی سفیان سے نہیں ہے ۲؎ ،اورمکحول نے ایک آدمی سے اوراس آدمی نے عنبسہ سے ان کی حدیث کے علاوہ ایک دوسری حدیث روایت کی ہے،گویا امام بخاری اس حدیث کو صحیح نہیں مانتے ۔ ۱؎ : ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی تخریج ابن ماجہ نے کی ہے (دیکھئے: باب الوضوء من مس الذكر رقم ۴۸۱)۔ ۲؎ : یحییٰ بن معین ،ابوزرعہ ،ابوحاتم اورنسائی نے بھی یہی بات کہی ہے، لیکن عبد الرحمن دحیم نے ان لوگوں کی مخالفت کی ہے اورانہوں نے مکحول کا عنبسہ سے سماع ثابت کیا ہے (دحیم اہل شام کی حدیثوں کے زیادہ جانکار ہیں)۔