جامع الترمذي - حدیث 89

أَبْوَابُ الطَّهَارَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب فِي الْمَضْمَضَةِ مِنْ اللَّبَنِ​ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ وَأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمَضْمَضَةَ مِنْ اللَّبَنِ وَهَذَا عِنْدَنَا عَلَى الِاسْتِحْبَابِ وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ الْمَضْمَضَةَ مِنْ اللَّبَنِ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 89

کتاب: طہارت کے احکام ومسائل دودھ پینے پر کر کلی کرنے کا بیان​ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیاتوپانی منگواکر کلی کی اورفرمایا:' اس میں چکنائی ہوتی ہے'۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں سہل بن سعد ساعدی ، اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ کلی دودھ پینے سے ہے ، اور یہ حکم ہمارے نزدیک مستحب ۱؎ ہے۔ ۱؎ : بعض لوگوں نے اسے واجب کہا ہے، ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ ابن ماجہ کی ایک روایت (رقم ۴۹۸) میں'مضمضوا من اللبن'امرکے صیغے کے ساتھ آیا ہے اور امر میں اصل وجوب ہے، اس کا جواب یہ دیاجاتاہے کہ یہ اس صور ت میں ہے جب استحباب پرمحمول کرنے کی کوئی دلیل موجودنہ ہو اور یہاں استحباب پرمحمول کئے جانے کی دلیل موجودہے کیو نکہ ابوداود نے (برقم ۱۹۶) انس سے ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیاتو نہ کلی کی اور نہ وضوہی کیا، اس کی سند حسن ہے۔