جامع الترمذي - حدیث 90

أَبْوَابُ الطَّهَارَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب فِي كَرَاهَةِ رَدِّ السَّلاَمِ غَيْرَ مُتَوَضِّئٍ​ حسن حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَإِنَّمَا يُكْرَهُ هَذَا عِنْدَنَا إِذَا كَانَ عَلَى الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ ذَلِكَ وَهَذَا أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ وَعَلْقَمَةَ بْنِ الْفَغْوَاءِ وَجَابِرٍ وَالْبَرَاءِ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 90

کتاب: طہارت کے احکام ومسائل بغیر وضو سلام کا جواب دینے کی کراہت کا بیان​ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا،آپ پیشاب کررہے تھے، توآپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- اور ہمارے نزدیک سلام کا جواب دینا اس صورت میں مکروہ قرار دیا جاتا ہے جب آدمی پاخانہ یاپیشاب کررہاہو،بعض اہل علم نے اس کی یہی تفسیرکی ہے ۱؎ ، ۲- یہ سب سے عمدہ حدیث ہے جواس باب میں روایت کی گئی ہے،۳- اور اس باب میں مہاجر بن قنفذ ، عبداللہ بن حنظلہ، علقمہ بن شفواء ، جابر اور براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۱؎ : اوریہی راجح ہے کہ آپﷺ پیشاب کی حالت میں ہو نے کی وجہ سے جواب نہیں دیا، نہ کہ وضو کے بغیر سلام کاجواب جائزنہیں، اورجن حدیثوں میں ہے کہ 'نبی اکرم ﷺنے فراغت کے بعد وضو کیااور پھر آپ نے جواب دیا'تویہ استحباب پر محمول ہے ، نیز یہ بات آپ کو خاص طورپر پسندتھی کہ آپ اللہ کا نام بغیرطہارت کے نہیں لیتے تھے ، اس حدیث سے ایک بات اور ثابت ہوتی ہے کہ پائخانہ پیشاب کرنے والے پرسلام ہی نہیں کرناچاہئے ، یہ حکم وجوبی ہے۔