جامع الترمذي - حدیث 97

أَبْوَابُ الطَّهَارَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ أَعْلاَهُ وَأَسْفَلِهِ​ ضعيف حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخْبَرَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ الْفُقَهَاءِ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَإِسْحَقُ وَهَذَا حَدِيثٌ مَعْلُولٌ لَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ غَيْرُ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ وَمُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَا لَيْسَ بِصَحِيحٍ لِأَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ رَوَى هَذَا عَنْ ثَوْرٍ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ قَالَ حُدِّثْتُ عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ مُرْسَلٌ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ الْمُغِيرَةُ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 97

کتاب: طہارت کے احکام ومسائل موزے کے اوپر اور نیچے دونوں طرف مسح کرنے کا بیان​ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے موزے کے اوپر اور نیچے دونوں جانب مسح کیا ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صحابہ کرام ،تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے اور مالک، شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۲- یہ حدیث معلول ہے ۔میں نے ابوزرعہ اور محمد بن اسماعیل (بخاری) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا توان دونوں نے کہاکہ یہ صحیح نہیں ہے ۲؎ ۔ ۱؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے موزوں کے اوپراورنیچے دونوں جانب مسح کیا لیکن یہ روایت ضعیف ہے جیساکہ امام ترمذی نے خوداس کی صراحت کردی ہے۔ ۲؎ : مولف نے یہاں حدیث علت کی واضح فرمائی ہے ان سب کاماحصل یہ ہے کہ یہ حدیث مغیرہ کی سند میں سے نہیں بلکہ کاتب مغیرہ (تابعی) سے مرسلاً مروی ہے، ولید بن مسلم کو اس سلسلے میں وہم ہوا ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ کی مسند میں سے روایت کردیا ہے، ترمذی نے' لم یسندہ عن ثوربن یزیدغیرالولید بن مسلم' کہہ کر اسی کی وضاحت ہے۔مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مسنداً روایت اس کے برخلاف ہے جو آگے آرہی ہے اوروہ صحیح ہے ملاحظہ:(سند میں انقطاع ہے ، راوی ثور بن یزید کا رجاء بن حیوہ سے سماع نہیں ہے، اسی طرح ابوزرعہ اور بخاری کہتے ہیں کہ حیوہ کا بھی کاتب مغیرہ بن شعبہ کا وراد سے سماع نہیں ہے، نیز یہ کاتب ِ مغیرہ کی مرسل روایت ثابت ہے۔) نوٹ: ابن ماجہ (۵۵۰) ابوداود (۱۶۵) میں غلطی سے موطأ ، مسند احمد اور دارمی کا حوالہ آگیاہے، جب کہ ان کتابوں میں مسح سے متعلق مغیرہ بن شعبہ کی متفق علیہ حدیث آئی ہے جس میں اوپر نیچے کی صراحت نہیں ہے، ہاں آگے آنے والی حدیث (۹۸) میں مغیرہ سے صراحت کہ انہوں نے نبی اکرمﷺکو اوپر ی حصے پر مسح کرتے دیکھا ۔