سورة البقرة - آیت 10

فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ

ترجمہ القرآن الکریم - حافظ عبدالسلام بھٹوی

10-2  ان کے دلوں ہی میں ایک بیماری ہے تو اللہ نے انھیں بیماری میں اور بڑھا دیا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

20۔ یہاں ” مرض“ سے مراد شکوک و شبہات اور نفاق کی بیماری ہے، قلبِ انسانی کو دو طرح کے امراض لاحق ہوتے ہیں : شبہاتِ باطلہ کا مرض اور مہلک شہوات کا مرض۔ کفر و نفاق اور شکوک و شبہات کی پہلی قسم سے ہے، اور زنا و فواحش و معاصی سے محبت، دوسری قسم سے۔ اور حقیقی عافیت یہ ہے کہ آدمی دونوں قسم کے امراض سے بچا رہے، تو پھر اسے یقین و ایمان حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہاں اہل نفاق کے دل کو قلب مریض سے تعبیر کیا ہے، اسی طرح مومنوں کے دل کو قلب سلیم سے تعبیر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الا من اتی اللہ بقلب سلیم، یعنی وہ دل جو کفر و نفاق کے مرض سے محفوظ ہے۔ الشعراء : 89) 21۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی اپنے سابقہ گناہوں کی وجہ سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور عقاب) دوسرے گناہوں میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ واما الذین فی قلوبہم مرض فزادتہم رجسا الی رجسہم، یعنی جن کے دلوں میں گناہ کی گندگی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور بڑھا دیتا ہے، تو گناہ کی سزا اس کے بعد دوسرا گناہ ہوتا ہے۔ جیسے نیکی کا ثواب دوسری نیکی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی۔ یعنی اہل ہدایت کو اللہ مزید ہدایت دیتا ہے مریم :76۔ کفر و نفاق کے مرض میں مبتلا ہونے اور اس پر اصرار کی سزا اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی، اب کسی وعظ و نصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوتا، یا یوں کہہ لیجیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کی مسلسل دنیوی اور دینی کامیابیوں کی وجہ سے ان کا حسد و حقد اور کفر و نفاق بڑھتا گیا، اور ان کی حسرتوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ 22۔ دردناک عذاب کا سبب ان کا کذب و نفاق ہے۔ اس میں جھوٹ کی قباحت کی طرف اشارہ ہے، اور اس طرف بھی کہ ایمان باللہ میں نفاق سے بڑھ کر کوئی جھوٹ نہیں۔