سورة البقرة - آیت 11

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : منافقت کی بیماری کی وجہ سے منافق کو اصلاح اور بگاڑ کے درمیان شعور نہیں رہتا۔ اصلاح و فساد کی ابتدا انسان کے ضمیر سے ہوتی ہے۔ ضمیر بگڑتا ہے تو طبیعت میں برائی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ جو آدمی کے کردار پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ جس سے اکثر اوقات سوچ کے زاویے اس قدر بگڑ جاتے ہیں کہ آدمی کو اصلاح اور بگاڑ میں فرق محسوس نہیں ہوتا۔ خاص کر ایسا شخص جو اپنے مفاد کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقدس نام اور آخرت کے عقیدہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے۔ اس کا ضمیر اس حد تک پستی کا شکار ہوجاتا ہے کہ اس سے ہر گناہ اور جرم کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ایسے لوگوں پر جتنے نگران مقرر کردیے جائیں اور انہیں لاکھ سمجھائیں۔ اصلاح کی بجائے ان کے بگاڑ میں اضافہ ہی ہوا کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ رشوت کے خاتمہ کے لیے انسداد رشوت ستانی کے محکمہ سے رشوت کے ریٹ بڑھ جاتے ہیں۔ فروغ تعلیم کے نام پر جہالت، معلومات عامہ کے نام پر گندہ لٹریچر، کلچر کے نام پر بے حیائی، عدل و انصاف کے نام پر ججز اور وکلاء کی قانونی موشگافیاں، شیطان کی آنت کی طرح پھیلا ہوا عدالتی نظام بگڑتاہی چلا جاتا ہے۔ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد کے نام پر وسیع تر فساد کا جال بچھا دیا جاتا ہے۔ امن و امان قائم کرنے کے نام پر بے گناہوں کا قتل عام، یہ سب اصلاح اور فلاح کے نام پر ہی تو کیا جاتا ہے۔ ایسی حکومتوں، افسروں اور اداروں کے ذمہ داران کو سمجھا کر دیکھ لیجئے۔ جواب یہی ملے گا کہ ہم تو اصلاح احوال اور فلاح عوام کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ لوگ فسادی ہیں مگر حقیقی شعور سے محروم ہونے کی وجہ سے اصلاح اور فساد میں فرق نہیں سمجھتے جس وجہ سے اپنے آپ کو مصلح سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے مسلمانوں کو خبردار اور ہوشیار رہنے کا حکم دیا گیا کہ ان منافقوں اور فسادیوں سے بچتے رہنا۔ مسائل ١۔ منافق فسادی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مصلح سمجھتا ہے۔ ٢۔ منافق حقیقی سمجھ سے تہی دامن ہوتا ہے۔