سورة البقرة - آیت 43

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

یہاں نماز کی تلقین اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دے کر انہیں سبق دیا جا رہا ہے۔ تمہیں اپنے مفادات کے سامنے جھکنے کی بجائے اللہ کے حضور سر نگوں ہونا چاہیے اور لوگوں سے مال بٹورنے کی بجائے زکوٰۃ کی صورت میں خرچ کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی رضا کی خاطر پوری زکوٰۃ ادا کرنے والا نہ بخیل ہوتا اور نہ لوگوں کا مال بٹورتا ہے۔ تنہا نماز پڑھنے کے بجائے مسلمانوں کے ساتھ مل کر رکوع کیا کرو۔ یہودیوں نے اپنی نماز میں رکوع کو خارج کردیا تھا۔ اس لیے رکوع کی ادائیگی کا بالخصوص ذکر فرما کر جماعت کی اہمیت کا احساس دلایا جارہا ہے کہ دین میں صرف نماز پڑھ لینا ہی کافی نہیں بلکہ نماز با جماعت ادا کرنے کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ نماز باجماعت : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلَاۃَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً) (رواہ البخاری : کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ) ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے۔“ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنے والوں کے بارے میں اپنے ارادے کا یوں بھی اظہار فرمایا : (وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَیُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بالصَّلَاۃِ فَیُؤَذَّنَ لَھَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَیَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلٰی رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوْتَھُمْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُھُمْ أَنَّہٗ یَجِدُ عَرْقًا سَمِیْنًا أَوْ مِرْمَاتَیْنِ حَسَنَتَیْنِ لَشَھِدَ الْعِشَآءَ) (رواہ البخاری : کتاب الاذان، باب وجوب صلاۃ الجماعۃ) ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں جب اکٹھی ہوجائیں تو میں نماز کا حکم دوں نماز کے لیے اذان دی جائے پھر میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کروائے اور میں نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پاس جاؤں۔ ان پر ان کے گھروں کو جلا کر راکھ کردوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے نماز کے بدلے موٹی ہڈی یا دو پائے ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتے۔“ مسائل ١۔ سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرنا بڑا گناہ ہے اور یہ یہودیوں کی عادت ہے۔ ٢۔ حق جاننے کے باوجود حق بات کو چھپانابڑا گناہ ہے۔ ٣۔ زکوٰۃ کی ادائیگی اور نماز باجماعت پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اقامت صلوٰۃ کے تقاضے : ١۔ پہلے وضو کیا جائے۔ (المائدۃ: ٦) ٢۔ نماز مقررہ اوقات پر ادا کی جائے۔ (النساء : ١٠٣) ٣۔ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھو۔ ( النساء : ٤٣) ٤۔ نماز میں غفلت اور ریا کاری نہیں ہونی چاہیے۔ ( الماعون : ٥، ٦) ٥۔ نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جائے۔ ( البقرۃ: ٤٣) ٦۔ نماز میں عاجزی ہونی چاہیے۔ ( البقرۃ: ٢٣٨) ٧۔ نماز خشوع کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔ ( المؤمنون : ٢) ٨۔ اقامت صلوٰۃ کا صلہ۔ (العنکبوت : ٤٥)