سورة البقرة - آیت 35

وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو (١) اور جہاں کہیں سے چاہو با فراغت کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا (٢) ورنہ ظالم ہوجاؤ گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

٧٨: اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا، ان کو عزت دی، اور پھر ان کی بیوی کو ان کی پسلی سے پیدا کیا، تاکہ آم ان کے ذریعے سکون حاصل کریں، اور اللہ نے اپنی نعمت ان پر تمام کردی کہ دونوں کو حکم دیا کہ جنت میں رہیں اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا ان لک الا تجوع فیہا ولا تعری، وانک لا تظما فیھا ولا تضحی۔ اللہ نے آدم سے کہا کہ جنت میں نہ تمہیں بھوک لگے گی اور نہ تم ننگے ہوگے، نہ تمہیں پیاس لگے گی اور نہ گرمی (طہ : 118، 119) ٧٩: اللہ تعالیٰ نے آڈم کے لیے جنت کی ہر نعمت مباح کردی، سوائے اس درخت کے جس کا کھانا اللہ نے ان کے لیے ممنوع قرار دے دیا، تاکہ ان کے لیے اس ممنوع درخت کو کھانے کا کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ اور یہ ممانعت اللہ کی طرف سے ان کا امتحان تھا اور اس درخت کے قریب ہونے سے منع کیا، اس سے کھانے کی حرمت میں مبالغہ مقصود ہے کہ اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ قرآن و سنت میں اس درخت کی تعیین نہیں آئی ہے، کسی نے کہا وہ گیہوں کا پودا تھا، کسی نے اسے انگور کا درخت کہا ہے، اور کسی نے انجیر کا، ممکن ہے انہی میں سے کوئی درخت ہو، بہرحال اس کے جان لینے سے سامع کو نہ کوئی مزید نفع پہنچ گا اور نہ اس کے نہ جاننے سے کوئی نقصان۔ اس لیے اس کرید میں نہیں پڑنا چاہیے۔ ٨٠: یہ دلیل ہے اس بات کی کہ آیت میں (نہی) تحریم کے لیے ہے۔ اس لیے کہ ممنوع درخت کو کھانے کا نتیجہ ظلم بتایا گیا ہے اور اس لیے بھی کہ اللہ کے اوامر و نواہی کو استحباب و کراہت پر محمول کرنا بغیر کسی ایسی دلیل کے جائز نہیں جو واضح طور پر بتاتی ہو کہ یہ امر یا نہی استحباب یا کراہت کے لیے ہے۔