سورة الفاتحة - آیت 2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ Ǻ۝ۙ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

سب تعریف اللہ کیلئے ہے جو کل جہان کا پروردگار ہے ۔ ف ٢۔

ابن کثیر - حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر صاحب

الحمد اللہ کی تفسیر ساتوں قاری «الْحَمْدُ» کو دال پر پیش سے پڑھتے ہیں اور «الْحَمْدُ لِلہِ» کو مبتدا خبر مانتے ہیں ۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اور روبہ بن عجاج رحمہ اللہ کا قول ہے کہ «دال» پر زبر کے ساتھ ہے اور فعل یہاں مقدر ہے ۔ ابن ابی عبلہ رحمہ اللہ «الْحَمْدُ» کی «دال» کو اور «اللہ» کے پہلے «لام» دونوں کو پیش کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس «لام» کو پہلے کے تابع کرتے ہیں اگرچہ اس کی شہادت عربی زبان میں ملتی ہے ، مگر شاذ ہے ۔ حسن رحمہ اللہ اور زید بن علی رحمہ اللہ ان دونوں حرفوں کو زیر سے پڑھتے ہیں اور «لام» کے تابع «دال» کو کرتے ہیں ۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «الْحَمْدُ لِلہِ» کے معنی یہ ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس کے سوا کوئی اس کے لائق نہیں ، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو اس وجہ سے کہ تمام نعمتیں جنہیں ہم گن بھی نہیں سکتے ، اس مالک کے سوا اور کوئی ان کی تعداد کو نہیں جانتا اسی کی طرف سے ہیں ۔ اسی نے اپنی اطاعت کرنے کے تمام اساب ہمیں عطا فرمائے ۔ اسی نے اپنے فرائض پورے کرنے کے لیے تمام جسمانی نعمتیں ہمیں بخشیں ۔ پھر بےشمار دنیاوی نعمتیں اور زندگی کی تمام ضروریات ہمارے کسی حق بغیر ہمیں بن مانگے بخشیں ۔ اس کی لازوال نعمتیں ، اس کے تیار کردہ پاکیزہ مقام جنت کو ہم کس طرح حاصل کر سکتے ہیں ؟ یہ بھی اس نے ہمیں سکھا دیا پس ہم تو کہتے ہیں کہ اول آخر اسی مالک کی پاک ذات ہر طرح کی تعریف اور حمد و شکر کے لائق ہے ۱؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:125/1) «الْحَمْدُ لِلہِ» یہ ثنا کا کلمہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ثنا و خود آپ کی ہے اور اسی ضمن میں گویا یہ فرما دیا ہے کہ تم کہو «الْحَمْدُ لِلہِ» بعض نے کہا کہ «الْحَمْدُ لِلہِ» کہنا اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں سے اس کی ثنا کرنا ہے ۔ اور «الشٰکْرُ لِلہِ» کہنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا شکریہ ادا کرنا ہے ۱؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:138/1) لیکن یہ قول ٹھیک نہیں ۔ اس لیے کہ عربی زبان کو جاننے والے علماء کا اتفاق ہے ۔ کہ شکر کی جگہ حمد کا لفظ اور حمد کی جگہ شکر کا لفظ بولتے ہیں ۔ جعفر صادق رحمہ اللہ ، ابن عطا صوفی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہر شکر کرنے والے کا کلمہ «الْحَمْدُ لِلہِ» ہے ۔ قرطبی رحمہ اللہ نے ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کو معتبر کرنے کے لیے یہ دلیل بھی بیان کی ہے کہ اگر کوئی «الْحَمْدُ لِلہِ شُکْرًا» کہے تو جائز ہے ۔ دراصل علامہ ابن جریر رحمہ اللہ کے اس دعویٰ میں اختلاف ہے ، پچھلے علماء میں مشہور ہے کہ «حَمْدَ» کہتے ہیں زبانی تعریف بیان کرنے کو خواہ جس کی حمد کی جاتی ہو اس کی لازم صفتوں پر ہو یا متعدی صفتوں پر اور شکر صرف متعدی صفتوں پر ہوتا ہے اور وہ دل زبان اور جملہ ارکان سے ہوتا ہے ۔ عرب شاعروں کے اشعار بھی اس پر دلیل ہیں ۔ ہاں اس میں اختلاف ہے کہ «حَمْدَ» کا لفظ عام ہے یا «شٰکْر» کا اور صحیح بات یہ ہے کہ اس میں عموم اس حیثیت سے خصوص ہے کہ «حَمْدَ» کا لفظ جس پر واقع ہو وہ عام طور پر «شٰکْر» کے معنوں میں آتا ہے ۔ اس لیے کہ وہ لازم اور متعدی دونوں اوصاف پر آتا ہے شہ سواری اور کرم دونوں پر «حَمِدْتُہُ» کہہ سکتے ہیں لیکن اس حیثیت سے وہ صرف زبان سے ادا ہو سکتا ہے یہ لفظ خاص اور «شٰکْر» کا لفظ عام ہے کیونکہ وہ قول ، فعل اور نیت تینوں پر بولا جاتا ہے اور صرف متعدی صفتوں پر بولے جانے کے اعتبار سے «شٰکْر» کا لفظ خاص ہے ۔ شہ سواری کے حصول پر «شَکَرْتُہُ» نہیں کہہ سکتے البتہ «شَکَرْتُہُ عَلَی کَرَمِہِ وَإِحْسَانِہِ إِلَیَّ» کہہ سکتے ہیں ۔ یہ تھا خلاصہ متاخرین کے قول کا ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» ابونصر اسماعیل بن حماد جوہری کہتے ہیں «حمد» مقابل ہے «ذم» کے ۔ لہٰذا یوں کہتے ہیں کہ «حَمِدْتُ الرَّجُلَ أَحْمَدُہُ حَمْدًا وَمَحْمَدَۃً فَہُوَ حَمِیدٌ وَمَحْمُودٌ» تحمید میں «حمد» سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ «حمد» «شکر» سے عام ہے ۔ کسی محسن کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کی ثنا کرنے کو «شکر» کہتے ہیں ۔ عربی زبان میں «شَکَرْتُہُ» اور «شَکَرْتُ لَہُ» دونوں طرح کہتے ہیں لیکن «لام» کے ساتھ کہنا زیادہ فصیح ہے ۔ مدح کا لفظ «حمد» سے بھی زیادہ عام ہے اس لیے کہ زندہ مردہ بلکہ جمادات پر بھی مدح کا لفظ بول سکتے ہیں ۔ کھانے اور مکان کی اور ایسی اور چیزوں کی بھی مدح کی جاتی ہے احسان سے پہلے ، احسان کے بعد ، لازم صفتوں پر ، متعدی صفتوں پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے تو اس کا عام ہونا ثابت ہوا ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» حمد کی تفسیر اقوال سلف سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ «سُبْحَانَ اللہِ » اور «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» اور بعض روایتوں میں ہے کہ « اللہُ أَکْبَرُ» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «الْحَمْدُ لِلہِ» کا کیا مطلب ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس کلمہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے پسند فرما لیا ہے اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کا کہنا اللہ کو بھلا لگتا ہے ۱؎ ۔ (تفسیر ابن ابی حاتم:15/1:ضعیف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ کلمہ شکر ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میرا شکر کیا ۲؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:151) اس کلمہ میں شکر کے علاوہ اس کی نعمتوں ، ہدایتوں اور احسان وغیرہ کا اقرار بھی ہے ۔ کعب احبار رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی ثنا ہے ۔ ضحاک کہتے ہیں یہ اللہ کی چادر ہے ۔ ایک حدیث میں بھی ایسا ہی ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم «الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ» کہہ لو گے تو تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کر لو گے اب اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے گا} ۳؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:152:ضعیف) {اسود بن سریع ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ میں نے ذات باری تعالیٰ کی حمد میں چند اشعار کہے ہیں اگر اجازت ہو تو سناؤں فرمایا : اللہ تعالیٰ کو اپنی حمد بہت پسند ہے} ۴؎ ۔ (مسند احمد:435/3:حسن) ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل ذکر «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» ہے اور افضل دعا «الْحَمْدُ لِلہِ» ہے } ۱؎ ۔ (سنن ترمذی:3383،قال الشیخ الألبانی:حسن) امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن غریب کہتے ہیں ۔ ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے کہ {جس بندے کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت دی اور وہ اس پر «الْحَمْدُ لِلہِ» کہے تو دی ہوئی نعمت لے لی ہوئی سے افضل ہو گی} ۲؎ ۔ (سنن ابن ماجہ:3805،قال الشیخ الألبانی:حسن) فرماتے ہیں اگر میری امت میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ تمام دنیا دے دے اور وہ «الْحَمْدُ لِلہِ» کہے تو یہ کلمہ ساری دنیا سے افضل ہو گا ۔ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ساری دنیا دے دینا اتنی بڑی نعمت نہیں جتنی «الْحَمْدُ لِلہِ» کہنے کی توفیق دینا ہے اس لیے کہ دنیا تو فانی ہے اور اس کلمہ کا ثواب باقی ہی باقی ہے ۱؎ ۔ (سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:876،ضعیف) جیسے کہ قرآن پاک میں ہے «الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِینَۃُ الْحَیَاۃِ الدٰنْیَا وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَخَیْرٌ أَمَلًا» ۲؎ (18-الکہف:46) الخ یعنی ’مال اور اولاد دنیا کی زینت ہے اور نیک اعمال ہمیشہ باقی رہنے والے ، ثواب والے اور نیک امید والے ہیں‘ ۔ ابن ماجہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک شخص نے ایک مرتبہ کہا «یَا رَبِّ ، لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلَالِ وَجْہِکَ وَعَظِیمِ سُلْطَانِکَ» تو فرشتے گھبرا گئے کہ ہم اس کا کتنا اجر لکھیں ۔ آخر اللہ تعالیٰ سے انہوں نے عرض کی کہ تیرے ایک بندے نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے کہ ہم نہیں جانتے اسے کس طرح لکھیں ، پروردگار نے باوجود جاننے کے ان سے پوچھا کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ اس نے یہ کلمہ کہا ہے ، فرمایا : ”تم یونہی اسے لکھ لو میں اس اسے اپنی ملاقات کے وقت اس کا اجر دے دوں گا“} ۳؎ ۔ (سنن ابن ماجہ:3801،قال الشیخ الألبانی:ضعیف) قرطبی رحمہ اللہ ایک جماعت علماء سے نقل کرتے ہیں کہ «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» سے بھی «الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ» افضل ہے کیونکہ اس میں توحید اور حمد دونوں ہیں ۔ اور علماء کا خیال ہے کہ «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» افضل ہے اس لیے کہ ایمان و کفر میں یہی فرق کرتا ہے ، اس کے کہلوانے کے لیے کفار سے لڑائیاں کی جاتی ہیں ۔ جیسے کہ صحیح بخاری و مسلم حدیث میں ہے ۱؎ (صحیح بخاری:1399) ایک اور مرفوع حدیث میں ہے کہ {جو کچھ میں نے اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کرام نے کہا ہے ان میں سب سے افضل «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ» ہے} ۲؎ ۔ (سنن ترمذی:3585،قال الشیخ الألبانی:حسن) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی ایک مرفوع حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ {افضل ذکر «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» ہے اور افضل دعا «الْحَمْدُ لِلہِ» ہے} ۳؎ ۔ (سنن ترمذی:3383،قال الشیخ الألبانی:حسن) ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ۔ الحمد میں «الف» «لام» استغراق کا ہے یعنی حمد کی تمام تر قسمیں سب کی سب صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ثابت ہیں ۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ باری تعالیٰ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اور تمام ملک ہے ۔ تیرے ہی ہاتھ تمام بھلائیاں ہیں اور تمام کام تیری ہی طرف لوٹتے ہیں ۱؎ ۔ (مسند احمد:346/5:ضعیف) «رب» کہتے ہیں «مَالِکُ» اور «مُتَصَرِّفُ» کو لغت میں اس کا اطلاق سردار اور اصلاح کے لیے تبدیلیاں کرنے والے پر بھی ہوتا ہے اور ان سب معانی کے اعتبار سے ذات باری تعالیٰ کے لیے یہ خوب جچتا ہے ۔ «رب» کا لفظ بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے پر نہیں کہا جا سکتا ہاں اضافت کے ساتھ ہو تو اور بات ہے جیسے «رَبٰ الدَّارِ» یعنی گھر والا وغیرہ ۔ بعض کا تو قول ہے کہ اسم اعظم یہی ہے ۔ عالمین سے مراد «الْعَالَمِینَ» جمع ہے «عَالَمٍ» کی اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق کو «عَالَمٍ» کہتے ہیں ۔ لفظ «عَالَمٍ» بھی جمع ہے اور اس کا واحد لفظ ہے ہی نہیں ۔ آسمان کی مخلوق خشکی اور تری کی مخلوقات کو بھی «عَوَالِمُ» یعنی کئی «عَالَمٍ» کہتے ہیں ۔ اسی طرح ایک ایک زمانے ، ایک ایک وقت کو بھی «عَالَمٍ» کہا جاتا ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد کل مخلوق ہے خواہ آسمانوں کی ہو یا زمینوں کی یا ان کے درمیان کی ، خواہ ہمیں اس کا علم ہو یا نہ ہو ۔ «علی ہذا القیاس» اس سے جنات اور انسان بھی مراد لیے گئے ہیں ۔ سعید بن جیر مجاہد اور ابن جریح رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہ مروی ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی غیر معتبر سند سے یہی منقول ہے اس قول کی دلیل قرآن کی آیت «لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا» ۱؎ (25-الفرقان:1) بھی بیان کی جاتی ہے یعنی تاکہ وہ «عَالَمِینَ» یعنی جن اور انس کے لیے ڈرانے والا ہو جائے ۔ فراء اور ابوعبید کا قول ہے کہ سمجھدار کو عالم کہا جاتا ہے ۔ لہٰذا انسان ، جنات ، فرشتے ، شیاطین کو عالم کہا جائے گا ۔ جانوروں کو نہیں کہا جائے گا ۔ سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ ، ابو محیص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر روح والی چیز کو عالم کہا جاتا ہے ۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ۔ ہر قسم کو ایک عالم کہتے ہیں مروان بن محمد عرف جعد جن کا لقب حمار تھا جو بنوامیہ میں سے اپنے زمانے کے خلیفہ تھے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سترہ ہزار عالم پیدا کئے ہیں ۔ آسمانوں والے ایک عالم ، زمینوں والے سب ایک عالم اور باقی کو اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کو ان کا علم نہیں ۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسان کل ایک عالم ہیں ، سارے جنات کا ایک عالم ہے اور ان کے سوا اٹھارہ ہزار یا چودہ ہزار عالم اور ہیں ۔ فرشتے زمین پر ہیں اور زمین کے چار کونے ہیں ، ہر کونے میں ساڑھے تین ہزار عالم ہیں ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔ یہ قول بالکل غریب ہے اور ایسی باتیں جب تک کسی صحیح دلیل سے ثابت نہ ہوں ماننے کے قابل نہیں ہوتیں ۔ حمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک ہزار امتیں ہیں ، چھ سو تری میں اور چار سو خشکی میں ۔ سعید بن مسیب سے یہ بھی مروی ہے ۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ایک سال ٹڈیاں نہ نظر آئیں بلکہ تلاش کرنے کے باوجود پتہ نہ چلا ۔ آپ غمگین ہو گئے یمن ، شام اور عراق کی طرف سوار دوڑائے کہ کہیں بھی ٹڈیاں نظر آتی ہیں یا نہیں تو یمن والے سوار تھوڑی سی ٹڈیاں لے کر آئے اور امیر المؤمنین کے سامنے پیش کیں آپ نے انہیں دیکھ کر تکبیر کہی اور فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں ان میں سے سب سے پہلے جو امت ہلاک ہو گی وہ ٹڈیاں ہوں گی بس ان کی ہلاکت کے بعد پے در پے اور سب امتیں ہلاک ہو جائیں گی جس طرح کہ تسبیح کا دھاگا ٹوٹ جائے اور ایک کے بعد ایک سب موتی جھڑ جاتے ہیں ۱؎ ۔ (مجمع الزوائد:322/7:باطل موضوع) اس حدیث کے راوی محمد بن عیسیٰ ہلالی ضعیف ہیں ۔ سعید بن میب رحمہ اللہ سے بھی یہ قول مروی ہے ۔ وہب بن منبہ فرماتے ہیں اٹھارہ ہزار عالم ہیں ، دنیا کی ساری کی ساری مخلوق ان میں سے ایک عالم ہے ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چالیس ہزار عالم ہیں ساری دنیا ان میں سے ایک عالم ہے ۔ زجاج کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا آخرت میں جو کچھ پیدا کیا ہے وہ سب عالم ہے ۔ قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ قول صحیح ہے اس لیے کہ یہ تمام عالمین پر مشتمل لفظ ہے ۔ جیسے فرعون کے اس سوال کے جواب میں رب العالمین کون ہے ؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «رَبٰ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا» ۱؎ (26-الشعراء:23) ”آسمانوں زمینوں اور دونوں کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کا رب“ ۔ «عالم» کا لفظ علامت سے مشتق ہے اس لیے کہ «عالم» یعنی مخلوق اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے پر نشان اور اس کی وحدانیت پر علامت ہے ۲؎ ۔ (تفسیر قرطبی:139/1) جیسے کہ ابن معتز شاعر کا قول ہے ۔ «فَیَا عَجَبًا کَیْفَ یُعْصَی الْإِلَہُ ... أَمْ کَیْفَ یَجْحَدُہُ الْجَاحِدُ ... وَفِی کُلِّ شَیْءٍ لَہُ آیَۃً ... تَدُلٰ عَلَی أَنَّہُ وَاحِدُ» یعنی تعجب ہے کس طرح اللہ کی نافرمانی کی جاتی ہے اور کس طرح اس سے انکار کیا جاتا ہے حالانکہ ہر چیز میں نشانی ہے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے «الْحَمْدُ» کے بعد اب «الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» کی تفسیر سنئے ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب